ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آرجے ڈی کا ٹویٹ میں دعویٰ ؛ کئی جیتنے والوں کوبعد میں ہارنے کی دی گئی خبر؛ الیکشن کمیشن نے دعوے کو کیامسترد

آرجے ڈی کا ٹویٹ میں دعویٰ ؛ کئی جیتنے والوں کوبعد میں ہارنے کی دی گئی خبر؛ الیکشن کمیشن نے دعوے کو کیامسترد

Wed, 11 Nov 2020 11:03:29    S.O. News Service

پٹنہ،11؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج میں عظیم اتحاد کی سب سے اہم جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے ٹویٹ کرتے ہوئے 119 امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان سیٹوں پر ان کے امیدوار جیت رہے ہیں، لیکن ڈی ایم سرٹیفکیٹ نہیں دے رہے ہیں۔ آر جے ڈی نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل پر ٹوئٹ کرکے کہا کہ جہاں گنتی مکمل ہونے کے بعد عظیم اتحاد کے امیدوار جیت چکے تھے۔ ریٹرننگ آفیسر نے انہیں جیت کی مبارکباد بھی دی، لیکن بعد میں سرٹیفکیٹ نہیں دی اور کہنے لگے کہ آپ ہار گئے۔ ٹویٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر بھی انہیں جیتا ہوا دکھایا گیا تھا۔اس تعلق سے الیکشن کمیشن نے ان دعووں کو مسترد کیا ہے۔

ٹویٹ میں آرجے ڈی نے موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’119 سیٹ جیتنے کے بعد ٹی وی پر 109 دکھایا گیا۔  نتیش کمار سبھی افسران کو فون کرکے دھاندلی کروا رہے ہیں۔ فائنل رزلٹ آنے اور مبارکباد دینے کے بعد اب افسر اچانک کہہ رہے ہیں کہ آپ ہار گئے ہیں۔

 اس سے پہلے آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے کہا تھا کہ پوسٹل بیلٹ کی گنتی آدھی روک دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ جی بار بار آر.او کو فون کر رہے ہیں۔ آر جے ڈی کی طرف سے یہ الزام لگا رہے  ہیں کہ وزیر اعلیٰ ووٹوں کی گنتی کو متاثر کر رہے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی  کا الزام لگاتے ہوئے آر جے ڈی کے  ایک وفد نے الیکشن کمیشن سے بھی ملا ہے۔ منوج جھا نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کرنے کے بعد کہا کہ کمیشن نے ہم سے کہا ہے کہ جہاں بھی ہمارا دعویٰ ہے، وہاں کمیشن پھر سے ووٹوں کی گنتی کرا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ 7 نومبر کو ووٹنگ کے بعد سامنے آئے ایگزٹ پول میں عظیم اتحاد کو زبردست جیت ملتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ تاہم منگل کو ووٹنگ کے دن ابتدائی رجحانات اور نتائج میں پھانسہ  پلٹ گیا اور این ڈی اے کو مسلسل سبقت ملتی گئی، جس کے بعد آر جے ڈی نے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کرکے جیت کا دعویٰ کیا ۔

آر جے ڈی نے نتیش حکومت پر بڑا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ  تقریباً 10سیٹوں پر نتیش انتظامیہ ووٹوں کی گنتی میں تاخیر کررہی ہے۔ جیتے ہوئے امیدواروں کو سرٹیفکیٹ نہیں دیا جارہا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ میں بیٹھ کر نتیش کمار سشیل مودی وزیر اعلیٰ کے چیف سکریٹری سے سبھی ڈ ی ایم اور آر او کو فون کرواکر نزدیکی لڑائی والی سیٹوں کے حق میں فیصلہ دلانے کا دباؤ بنوارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دیگر ٹوئٹ میں لکھا کہ، ’نتیش کمار اور سشیل مودی وغیرہ وزیر اعلیٰ کے دفتر میں بیٹھ کر سبھی ضلع افسران پر دباؤ بنا کر سخت احکامات جاری کروا رہے ہیں کہ عظیم اتحاد کو کسی بھی طرح 105/110 سیٹوں پر روک دیا جائے، لیکن ہم کسی بھی حالات میں عوامی مینڈیٹ کی لوٹ نہیں ہونے دیں گے۔ ریاستی اسمبلی انتخابات میں چار کروڑ سے زیادہ لوگوں نے ووٹنگ کی تھی۔

نتائج کا اعلان کرنے  ہم پر کوئی باہری دباؤ نہیں: الیکشن کمیشن کا بیان

الیکشن کمیشن نے کل دیر رات واضح کیا کہ بہار اسمبلی انتخابات کی 243سیٹوں پر ہوئے انتخابات کے نتائج کا اعلان کرنے کے معاملہ میں ان پر کوئی باہری دباو نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے راشٹریہ جنتادل کے اس دعوے کی تردید بھی کی کہ اس کے 119 امیدواروں کی جیت ہوگئی ہے لیکن رٹرننگ افسر جیت کا سرٹی فکیٹ نہیں دے رہے ہیں۔کمیشن کے جنرل سکریٹری امیش سنہا اور ضمنی انتخابات کمشنر چندر بھوشن کمار نے  ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پریس کانفرنس میں بتایا  کہ الیکشن کمیشن نے ووٹوں کی گنتی کے پورے نظام پر عمل کرتے ہوئے ووٹوں کی گنتی کا کام تیزی سے انجام دیاہے اور آخری نتائج حاصل ہوگئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جن اسمبلی حلقوں میں جیت کا فرق غیرمنظور شدہ پوسٹل بیلٹ پیپر سے کم ہے وہاں پھر سے پوسٹل بیلٹ کی گنتی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ 18مئی 2019کو کمیشن نے اس سلسلہ میں ایک ہدایت جاری کی  تھی  جس کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔


Share: